پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے، عام طور پر اسٹیبلشمنٹ سے مراد فوج اور بعض طاقتور ریاستی ادارے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ملکی سیاست پر براہِ راست یا بلواسطہ اثرانداز ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بارہا ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں حکومتوں کی تشکیل اور خاتمے کے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔ اکثر مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط ہونے کےلئے ہمیشہ مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اکثر ایک دوسرے پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ ان کے مخالفین کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل ہے جو کہ زیادہ تر یہ الزام سچ بھی ہوتا ہے، اس طرح کی سیاسی کشمکش نہ صرف جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عوام میں بھی شکوک وشبہات کو جنم دیتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا کے پھیلاو نے اس بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ پہلے جہاں اسٹیبلیشمنٹ پر تنقید محدود حلقوں تک رہتی تھی اب عام شہری بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض حلقوں میں اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کے بارے میں بھی تنقید میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
دوسری جانب کچھ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ریاستی اداروں کا بنیادی مقصد ملک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہوتا ہے اس لئے وہ بعض اوقات ایسے فیصلے کرتے ہیں جنہیں وہ قومی مفاد کےلئے ضروری سمجھتے ہیں تاہم حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے ناقدین کا موقف ہے کہ سیاست میں کسی بھی غیر منتخب ادارے کی مداخلت جمہوری عمل کو متاثر کرتی ہے۔
موجودہ حالات میں اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری ادارے کس طرح مضبوط ہوسکتے ہیں اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے سیاسی تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات اور مضبوط پارلیمانی نظام ہی وہ عوامل ہیں جو ملک میں سیاسی استحکام لاسکتے ہیں۔
آپ میری بات سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلیشمنٹ اور سیاست کا تعلق ایک پیچیدہ حقیقت ہے اس مسئلے کا پائیدار حل ایک ہی صورت میں ممکن ہے اگر تمام ریاستی ادارے اپنے آئینی حدود میں رہ کراپنا کردار ادا کریں اور جمہوری عمل کو بغیر کسی دباو کے آگے بڑھنے دیں۔
اس طرح نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے بلکہ پاکستان میں ایک مضبوط اور مستحکم جمھہوری نظام بھی قائم ہوسکتا ہے۔
سعداللہ خان
