تجزیہ: اگر ایران مزید چند ہفتے مزاحمت جاری رکھتا ہے تو امریکا کےلئے جنگ کا بوجھ بہت بھاری ہوسکتا ہے۔ماریو نوفل کا تجزیہ

تجزیہ: اگر ایران مزید چند ہفتے مزاحمت جاری رکھتا ہے تو امریکا کےلئے جنگ کا بوجھ بہت بھاری ہوسکتا ہے۔

گزشتہ چند گھنٹوں میں حالات میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اور موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کےلئے منظرنامہ زیادہ سازگار دکھائی نہیں دیتا۔





اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے آج رات خلیج کے چند ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے شدید حملے کئے، جس کی توقع کم لوگوں کو تھی۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کانگریس کو خفیہ بریفنگ میں بتایا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا تقریباً نصف حصہ اب بھی فعال ہے جبکہ اس کے پاس ڈرونز کی صلاحیت اس سے بھی زیادہ موجود ہے۔

آبنائے ہرمز تاحال بند ہے اگر ایران مزید تقریباً تین ہفتوں تک اسے بند رکھنے میں کامیاب رہا تو عالمی منڈٰیوں پر اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق ایران کےلئے ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔

ایران کی حکومت ابھی تک قائم ہے اور جو نیا رہنما سامنے آیا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت موقف رکھنے والا سمجھا جا رہا ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ نسبتا معتدل شخصیات، جنہیں امریکا اقتدار میں دیکھنا چاہتا تھا، ایک حملے میں مارے گئے جو ممکنہ طور پر اسرائیل کی کاروائی تھی۔

امریکا نے صرف پانچ دنوں کے اندر 800 سے زائد پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹر استعمال کرلئے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریبا 40 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی پینٹاگون کے پاس عالمی دفاعی ذمہ داریوں کے مقابلے میں ایسے میزائلوں کا ذخیرہ بہت محدود تھا۔

مثبت پہلو کیا ہوسکتا ہے؟

یہ امکان بھی موجود ہے کہ جنگ سرکاری اندازوں سے پہلے ختم ہوجائے۔ اگر تیل اور توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں ہتھیاروں کا ذخیرہ کم ہوتا جائے اور خلیجی خطہ مزید کشیدگی کا شکار ہو تو ٹرمپ کو جلد کسی حل کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ ایران کےلئے اس جنگ میں ،،فتح،، کا مطلب شاید صرف یہی ہے کہ وہ اتنی دیر تک ڈٹٓا رہے کہ جنگ کی معاشی اور عسکری قیمت امریکا کےلئے ناقابل برداشت بن جائے۔

یہ تجزیہ اسٹریلوی نژاد لبنانی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے معروف سرمایہ کار ماریو نوفل کی رائے پر مبنی ہےجو ایکس (ٹویٹر) پر اپنے ،،راونڈ ٹیبل،، مباحثوں کے باعث خاصی شہرت رکھتے ہیں۔

سعداللہ خان

جدید تر اس سے پرانی