"جو کچھ نظر آرہا ہے صرف وہی حقیقت نہیں" حامد میر کے خطرناک انکشافات
مزید تفصیلات کےلئے نیچے سکرول کریں۔
حامد میر نے انکشافات کئے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر اس لئے حملہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ختم کیا جائے اور وہاں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی جائے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے لڑایا جائے، جب مسلمان ممالک آپس میں لڑیں گے تو پھر ان سب کو ایک ایک کرکے ختم کرنا ممکن ہوسکے گا لیکن وجہ ایک اور بھی ہے جس پر ابھی تک کسی نے کوئی روشنی نہیں ڈالی، اس جنگ کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ساری دنیا میں کشیدگی پھیل جائے گی تو اسی کشیدگی کو جواز بنا کر یورپ اور امریکا سے مسلمانوں کو نکالنے کی ایک مہم شروع کی جائے گی۔
میں اس بارے میں بعد میں بات کروں گا کیونکہ میرے پاس اس بارے میں مکمل تفصیلات موجود ہیں۔
لیکن میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ہم ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں اور ہم ایران کے ایٹمی ہتھیار ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ دعوی مکمل طور پر غلط ہے۔
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کےلئے تیار تھا۔ عمان کے ذریعے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے بہت لچک دکھائی اور امریکہ کی کئی تجاویز کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
اس لئے اصل مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کا خیال ہے کہ جب تک ایران میں موجودہ حکومت برقرار رہے گی تب تک حماس اور حزب اللہ کو مدد ملتی رہے گی۔
اسرائیل کسی بھی صورت حماس اور حزب اللہ کو ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ غزہ پر اسرائیل کے مکمل قبضے کی راہ میں سب سے بڑی اور طاقتور رکاوٹ حماس ہے۔
لہذا غزہ میں پیس بورڈ کے پہلے اجلاس کے کچھ ہی دن بعد ایران پر یہ حملہ کیا گیا۔
اس جنگ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے مکمل قبضے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
