تحریر: سعداللہ خان
@S_K_Bannu
محمد بن حسین بغدادی فرماتے ہیں کہ میں ایک سال حج پر گیا
اتفاق سے مکہ کے بازار سے گزر رہا تھا۔ ایک بوڑھا آدمی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا، لڑکی کا رنگ متغیر ہورہا تھا، بدن بہت لاغر لیکن اس کے چہرے پر ایک نورانی چمک تھی۔ وہ بوڑھا آدمی پکار رہا تھا کہ کوئی لڑکی کا خریدار ہے؟ کوئی ہے جو اس کو پسند کرے، کوئی ہے جو 20 اشرفیوں سے اس کی قیمت زیادہ دے۔ اس شرط پر کہ میں اس کے ہر عیب سے بری ہوں۔ میں نے شیخ کے قریب جا کر پوچھا اس بندی کی قیمت کا حال تو معلوم ہوگیا۔ اس میں عیب کیا ہے؟
وہ کہنے لگا یہ لڑکی پاگل ہے اور ہر وقت غم زدہ رہتی ہے، رات بھر نماز پڑھتی ہے، دن بھر روزہ رکھتی ہے نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے، ہر جگہ بالکل تنہائی پسند کرتی ہے۔ جب میں نے اس کی بات سنی تو وہ لڑکی مجھے پسند آگئی اور میں نے اس کو خرید لیا اور اپنی قیام گاہ پر گیا۔ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ زمین کی طرف سر جھکا کر بیٹھی ہے۔ پھر اس نے سر اٹھایا اور کہنے لگی! میرے چھوٹے آقا آپ کا وطن کہاں ہے اللہ آپ پر رحم کرے۔ میں نے کہا عراق ہے۔ لڑکی کہنے لگی کونسا عراق بصرہ یا کوفہ؟ میں نے کہا دونوں میں نہیں۔ کہنے لگی تو کیا آپ بغداد کے رہنے والے ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔۔۔ کہنے لگی وہ تو عابدوں اور زاہدوں کا شہر ہے۔ مجھے تعجب ہوا کہ یہ بندی ایک کوٹھی سے دوسری کوٹھی والی عورت ہے اس کو عابدوں اور زاہدوں کی کیا خبر، میں نے اس سے دل لگی کے طور پر پوچھا کہ تو ان میں سے کن کن عابدوں کو جانتی ہے؟ کہنے لگی!! مالک بن دینار کو، محمد بن حسین کو۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تجھے ان سب کا حال کس طرح معلوم ہوا؟
کہنے لگی! اے نوجوان ان کو کیسے نہ جانوں، اللہ کی قسم یہ لوگ دِلوں کے طبیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو عاشق کو معشوق کا راستہ بتاتے ہیں۔ پھر اس نے چار شعر پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ "یہ قوم وہ لوگ ہیں جن کی فکر اللہ کے ساتھ وابستہ ہوگئے پس ان کےلئے کوئی فکر ہی کسی اور کا نہیں رہا، ان لوگوں کا مقصد صرف ان کا مولٰی اور ان کا سردار ہے۔ کیا ہی ایک بہترین مقصد ہے جو صرف ایک بےنیاز ذات کے واسطے ہے، نہ تو دنیا ان سے الجھتی ہے اور نہ کھانوں کی عمدگی، نہ دنیا کی لذت، نہ ان کی اولاد، نہ ان سے اچھا لباس سے جھگڑتا ہے، نہ تعداد کی کثرت۔۔۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ اے لڑکی میں محمد بن حسین ہی ہوں۔ کہنے لگی! میں نے اللہ تعالی سے دعا کی تھی کہ تم سے کہیں میری ملاقات ہوجائے۔ تمہاری وہ دلکش آواز کیا ہوئی جس سے تم تمام مریدین کے دلوں کو زندہ کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی آنکھیں بھر جایا کرتی تھیں۔ میں نے کہا بحالہ موجود ہے۔ کہنے لگی! اللہ کی قسم مجھے کچھ قرآن پاک سنا دو۔ میں نے "بِسْمِ اللہِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِیْمِ" پڑھا تو اس نے بہت زور سے ایک چیخ ماری اور بےہوش ہوگئی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ جس سے اس کو افاقہ ہوا۔ تو کہنے لگی جس کے نام کا یہ اثر ہے اگر میں اس کو پہچان لوں اور جنت میں اس کو دیکھ لوں تو کیا حال ہوگا۔ پھر کہنے لگی! اچھا پڑھئے اللہ جل شانہ آپ پر رحم کرے۔ میں نے یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ:
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے کہ ان کا جینا مرنا ایک جیسا ہوجائے جو ایسا گمان کرتے ہیں وہ بہت بری تجویز کررہے ہیں۔
یہ آیات سن کر کہنے لگی کہ اللہ تعالی کا شکر ہے ہم نے کبھی کسی کی پرستش کی نہ کسی صنم کو بوسہ دیا۔ اور کچھ پڑھئے اللہ آپ پر رحم کرے۔ میں نے پڑھا "بےشک ہم نے ظالم کےلئے آگ تیار کر رکھی ہے جس کے قناتیں اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوں گے۔ اور اگر وہ لوگ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح بدہیئت ہوگا اور ایسا سخت گرم کہ ان کے مونہوں کو جلائے گا۔ کیا ہی برا پانی ہوگا اور جہنم کیا ہی برا ٹھکانا ہوگا۔ وہ کہنے لگی! تم نے اپنے دل پر ناامیدی لازم کردی ہے اپنے دل کو امید اور خوف کو معطر کرو۔ کچھ اور پڑھو اللہ جل شانہ آپ پر رحم کرے۔ تو میں نے پڑھا "بہت سے چہرے اس دن خنداں و شاداں ہوں گے" اور یہ پڑھا "بہت سے چہرے اس دن کے بعد بارونق ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے" اس پر وہ کہنے لگی! ہائے مجھے اس دن اس کی ملاقات کتنا اشتیاق ہوگا۔ جس دن وہ اپنے دوستوں کےلئے تجلی فرمائے گا۔ کچھ اور بھی پڑھئے اللہ جل شانہ آپ پر رحم کرے۔ میں نے یہ آیت پڑھی۔ "ان اعلی درجہ والوں کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیز لے کر ہمیشہ آتے جاتے رہیں گے آبخورے اور آفتابے اور ایسے گلاس جو بہتی ہوئی شراب سے بھر گئے ہوں کہ نہ اس شراب سے ان کو سر کا درد یعنی چکر آئے گا نہ عقل میں فتور آئے گا اور ایسے میوے لے کر آئیں گے جن کو یہ لوگ پسند کریں گے اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوا اور ان کےلئے خوبصورت بڑے بڑے آنکھوں والی حوریں ہوں گی جیسا کہ حفاظت سے پوشیدہ رکھا ہوا موتی۔ یہ سب کچھ ان اعمال کا بدلہ ہے جو یہ لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ جنت میں کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ بس سلام ہی سلام کی آواز ہر طرف سے آئے گی۔ اور وہ حضرات جو داہنے والے ہیں یعنی ان کے اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے ہیں۔ وہ داہنے بھی کیسے اچھے آدمی ہیں وہ ان باغوں میں رہیں گے جہاں بغیر کانٹوں کی بیریاں ہوں گی، تہ بتہ کیلے لگے ہوں گے اور بہت لمبا سایہ ہوگا اور بہتا ہوا پانی ہوگا اور کثرت سے میوے ہوں گے جو نہ ختم ہوں گے اور نہ انہیں کسی قسم کی روک ٹھوک ہوگی۔ جتنا جس کا دل چاہے کھائے۔ اور اونچے اونچے فرش ہوں گے اور ان کےلئے بھی عورتیں ہوں گی جن کو ہم نے خاص طور سے بنایا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کنواریاں ہی رہیں یعنی صحبت کے بعد کنواری بن جائیں گی اور ناز و انداز کے لحاظ سے محبوبہ ہوگی اور جنت والوں کی ہم عمر ہوں گی اور یہ سب چیزیں داہنے والوں کےلئے ہیں۔ پھر وہ لڑکی مجھ سے کہنے لگی! میرا خیال ہے کہ تم نے بھی حوروں سے منگنی کی ہے۔ کچھ ان کے مہروں کے واسطے بھی خرچ کیا ہے مجھے بتادے۔ میں نے کہا ان کا مہر کیا ہوگا میں تو فقیر آدمی ہوں۔ کہنے لگی! رات کو تہجد پڑھنا اور دن کو روزہ رکھنا اور فقیروں اور مسکینوں سے محبت رکھنا۔ اس کے بعد اس بندی نے چھ اشعار پڑھے۔ جوکہ درج ذیل ہیں
"اے وہ شخص جو حوروں سے ان کے پردے میں منگنی کرتا ہے اور ان کے عالی مرتبے کے باوجود ان کا طالب ہے کوشش کے ساتھ کھڑا ہو جاؤ، سستی ہرگز نہ کر، نفس سے مجاہدہ کر، اس کو صبر کا عادی بنا، رات کو تہجد پڑھ کر دن کو روزہ رکھا کر۔ ان کا مہر ہے۔ اگر تیری دونوں آنکھیں ان کو اس حال میں دیکھ لیں جبکہ وہ تیری طرف متوجہ ہورہی ہوں"۔
یہ اشعار پڑھ کر اس پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ میں نے پھر اس کے چہرے پر پانی چھڑکا تو اس کو افاقہ ہوا اور اس نے کچھ شعر پڑھے۔
"اے اللہ تو مجھے عذاب سے بچا، بےشک میں اپنے گناہ کا جو مجھ سے صادر ہوئے اقرار کرنے والی ہوں۔ تو نے کتنی کثرت سے میری خطاؤں کی لغزش معاف فرمائی ہیں تو بڑا فضل والا ہے بڑا احسان والا ہے لوگ مجھے اچھا گمان کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہ میری خطائیں معاف نہ کردے تو میں بدترین ہوں۔ میرے لئے کوئی تدبیر نہیں اس کے سوا کہ تیری بخشش کی امید ہے اور تیرے ساتھ مجھے حسنِ ظن ہے۔ کہ تو ضرور کرم کرے گا"۔
یہ اشعار پڑھ کر اس بندی کو پھر غشی ہوگئی۔ میں جب اس کے قریب پہنچا تو وہ مرچکی تھی۔ مجھے اس کے انتقال کا بےحد صدمہ ہوا۔ میں اٹھ کر بازار گیا کہ اس کی تجہیز اور تکفین کا سامان خرید کر لاؤں۔ جب میں بازار سے لوٹا تو وہ کفنی کفنائی خوشبو لگی ہوئی معطر نعش رکھی ہوئی تھی۔ میں اور میرے ساتھی اس کے جنازے کو اٹھا لے گئے، جنازہ کی نماز پڑھ کر اس کو دفنا دیا اور اس کے قبر پر سورۃ یاسین شریف پڑھ کر اپنے حجرے میں چلا آیا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، دل اس کے فراق سے غمگین تھا۔ واپس آکر میں نے دو رکعت نفل پڑھی اور سو گیا۔ خواب میں دیکھا کہ وہ لڑکی جنت میں پھر رہی ہے نہایت مہکتے ہوئے زعفران کا باغیچہ ہے ریشم کے اور استبرق جوڑے پہن رہی ہے اس کے سر پر ایک موتیوں سے جڑا تاج تھا۔ پاؤں میں سرخ یاقوت کے جوتے ہیں۔ مشک و عنبر کی خوشبو اس سے مہک رہی ہے اس کا چہرہ شمس و قمر سے زیادہ روشن ہے۔ میں نے کہا اے لڑکی ذرا ٹھہرو۔ یہ تو بتا دے کہ یہ مرتبہ کس عمل کی بدولت تجھے ملا؟۔
کہنے لگی! فقراء اور مساکین سے محبت رکھنے اور استغفار کی کثرت سے اور مسلمانوں کے راستے میں ہر تکلیف دہ چیزوں کو ہٹا دینے سے۔ پھر اس نے تین شعر پڑھے۔
"مبارک ہے وہ شخص جس کی آنکھیں رات کو جاگتی ہو اور اپنے مالک کے عشق کی بےچینی میں رات گزار دے۔ اور کسی دن اپنی کوتاہیوں پر نوحہ کرلیا کرے اور اپنی خطاؤں پر رو لیا کرے۔ اللہ تعالی ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور آخر میں ہم سب دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور ہمیں اپنی رضا میں راضی کردے۔ آمین ثمہ آمین۔۔۔