آئندہ الیکشن کی تیاری، حکومت خزانے کو ذاتی جیب خرچ سمجھ کر اڑانے لگی

 آئندہ الیکشن کی تیاری، حکومت خزانے کو ذاتی جیب خرچ سمجھ کر اڑانے لگی


Preparing for the upcoming election, the government began to blow the treasury as personal pocket money
Preparing for the upcoming election, the government began to blow the treasury as personal pocket money

حکومت اپنے آئندہ الیکشن کی تیاری میں خزانے کو ذاتی جیب خرچ سمجھ کر اڑانے لگی۔ غیر مستحکم معیشت، ڈوبتی کرنسی اور خالی ہوتے خزانے کے خطرے کے باوجود حکومت اسمبلی ملازمين کو ایک سال میں 80 کروڑ سے زائد رقم اعزازیہ کے نام پر دے گی۔

یہی نہیں بجٹ سیشن میں ڈیوٹی کرنے پر پارلیمنٹ ملازمین کو چار اضافی تنخواہوں کی صورت میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے افسران اور ملازمين پر نوازشات کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

سماء نیوز کے مطابق اضافی الاؤنس کیلئے تجاویز بیورو کریسی نے مرتب کیں۔ اسمبلی ملازمين کو ایک سال میں 80 کروڑ سے زائد رقم اعزازیہ کے نام پر ملیں گے ، اور بجٹ سیشن میں ڈیوٹی کرنے پر پارلیمنٹ ملازمین کو چار اضافی تنخواہيں دينے کی تیاریاں ہیں، جب کہ افسران و ملازمین کو تنخواہ کے برابر سالانہ 4 اضافی اعزازيئے الگ سے ملیں گے۔

تجاویز کے تحت سينيٹ ملازمين کو اضافی تنخواہيں دينے پر 32 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
دوسری جانب سینیٹ کے مجموعی بجٹ سے ملازمین پر سالانہ 3 ارب سے زائد بجٹ خرچ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس کے برعکس مختص بجٹ سے ایوان بالا کے سینیٹرز کے سالانہ اخراجات صرف 60 کروڑ روپے ہيں۔

یاد رہے کہ ملازمین کو اضافی بونس دینے پر قومی خزانے سے سوا ارب سے زائد اضافی خرچ ہوں گے، جب کہ پارليمنٹ کے ملازمين کی تنخواہيں پہلے ہی باقی محکموں کے ملازمين سے دوگنی ہيں۔

جدید تر اس سے پرانی