Aik Maa Aur Bete ki Rongte Khare kr dene Wali Kahani || Heart Touching Story In Urdu Saadullah Khan

 دوستوں!! یہ 2009 کی بات ہے جب کچھ گھریلو اختلافات کی وجہ سے میرے والد نے میری ماں کو گھر سے نکال دیا تھا

Aik Maa Aur Bete ki Rongte Khare kr dene Wali Kahani || Heart Touching Story In Urdu Saadullah Khan
Aik Maa Aur Bete ki Rongte Khare kr dene Wali Kahani || Heart Touching Story In Urdu Saadullah Khan

اور والد صاحب کے روکنے کے باوجود میں ماں کے ساتھ گھر سے نکل آیا تھا نہ جانے کیوں مجھے غیر لوگوں سے ڈر لگتا تھا آج بھی لگتا ہے میں یہی سوچ کر ماں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا کہ اگر کوئی میری ماں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو میں مرجاؤں گا یا اسے مار دوں گا، آج بھی سوچتا ہوں تو رو پڑتا ہوں کہ جب میری ماں کو گھر سے نکالا گیا تھا تو میری ماں کے سر پر دوپٹہ تک نہ تھا۔ گاؤں کی ایک عورت جو کہ ذات کی موچی تھی انہوں نے میری ماں کو دوپٹہ اور لاہور جانے کےلئے پانچ سو روپیہ کرایہ دیا تھا جب میری ماں نے دوپٹہ اور کرایہ لے لیا تو میری ماں نے اس عورت سے ایک روٹی بھی مانگ لی تھی مگر نہ جانے کیوں روٹی مانگتے وقت میری ماں ایک بار پھر زار و قطار رونے لگی تھیں میں آج بھی بھیک میں ملی ہوئی اس ایک روٹی کا قرض نہیں اتار سکا۔ میری ماں نے وہ مانگی ہوئی روٹی بس میں بیٹھنے کے بعد مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلائی تھی ہم لاہور ماموں کے پاس پہنچے تقریبا ڈیڑھ دو سال ماموں نے ہم کو اپنے ساتھ رکھا پھر کچھ وجوہات کی بناء پر ہم لوگ کرائے کے گھر میں شفٹ ہوگئے۔ جب کرائے کے گھر میں شفٹ ہوئے تو مالی حالات پہلے ہی ٹھیک نہ تھے وہ اور بھی خراب ہوگئے۔ میری ماں نے پرائیویٹ سکول میں پڑھانا شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ٹائم لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ میں بھی کالج کے بعد ایک برگر سٹال پر کام کرنے لگا مگر اس کے باوجود بھی ہم دونوں ماں بیٹا اتنا نہیں کما پاتے تھے کہ گھر کا کرایہ اور بل وغیرہ ادا کرنے کے بعد گھر کا راشن بھی خرید سکیں۔۔۔۔۔

ایک دفعہ میری والدہ صاحبہ کے سر میں درد تھا اور ہمارے گھر میں دس روپے بھی نہیں تھے کہ میں اپنی ماں کےلئے پیناڈول کی گولیاں ہی خرید سکوں اسی شام ایک عورت جن کے گھر میری ماں بطور ملازمہ کام کرتی تھی آئی اور چھ سو روپے دے گئی، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے اس دن ہم دونوں ماں بیٹا صبح سے بھوکے تھے گھر میں آٹا تک نہیں تھا کہ روٹی بنا لیں جب پیسے آئے تو میں نے سو روپیہ اٹھا لیا تاکہ ماں کےلئے گولیاں لا سکوں مگر میری ماں نے یہ کہتے ہوئے مجھے روک دیا کہ ان کے سر کا درد ٹھیک ہو گیا ہے اور مجھے لے کر گھر کا سامان خریدنے چلی گئیں۔ مجھے امید تھی کہ دس بیس روپے بچ جائیں گے تو میں ماں کےلئے پیناڈول گولیاں خرید لوں گا مگر جب حساب کیا تو 675 روپے بل بن گیا۔ ہم ماں بیٹا اوپر والے 75 روپے ادھار کرکے گھر کو چل دیئے۔ مارکیٹ سے واپس آتے ہوئے راستے میں ایک شادی ہال تھا جب اس شادی ہال کے پاس پہنچے تو وہاں ایک بارات آئی ہوئی تھی، دولہے کے سامنے بینڈ باجے والے کھڑے تھے اور لوگ دولہے پر پیسے پھینک رہے تھے میں بھی لوگوں میں گھس گیا تا کہ دس روپے اٹھا کر ماں کےلئے سر درد کی گولی خرید سکوں۔ جوں ہی میں نے دس روپے کے نوٹ پر ہاتھ رکھا تو ایک بینڈ والے کی نظر مجھ پر پڑ گئی اس نے اتنی زور سے اپنا پاؤں میرے ہاتھ پر مارا کہ درد کی شدت محسوس کرکے مجھے لگا کہ میرا ہاتھ کٹ چکا ہے۔ ظالم بینڈ والے نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنے پاؤں میں پہنے ہوئے بوٹ کی مدد سے میرا ہاتھ مسلنا، کچلنا شروع کردیا مگر شاید وہ بھول گیا کہ اس کے مد مقابل ایک بچے کا ہاتھ نہیں بلکہ ایک انسان کی اپنی ماں سے محبت کھڑی تھی اسے لاکھ چلنے کے بعد میں نے دس روپے کا نوٹ نہیں چھوڑا اور جوں ہی اس نے اپنا پیر اٹھایا تو میں لہولہان ہاتھ میں دس روپے تھامے اپنی ماں کے پاس جا پہنچا۔ جب میری ماں گھر والی گلی کی طرف مُڑ گئی تو میں سامنے والے میڈیکل سٹور پر جا پہنچا وہاں سے ماں کےلئے سر درد کی گولیاں خریدیں اور گھر واپس آگیا جب گھر آکر گولیاں ماں کو دیں تو اس نے پوچھا کہ گولیوں کے پیسے کہاں سے لئے؟ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا وہ میرے زخمی ہاتھ کی حالت دیکھ کر رونے لگیں۔ میری ماں نے انتہائی محبت سے میرے ہاتھ پر لگا زخم صاف کیا اور پھر مجھ سے پیسوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو سارا واقعہ سچ سچ بتا دیا۔ واقعہ سن کر میری ماں آبدیدہ ہوگئیں اور مجھے کہنے لگیں، شازل تم کو کہا بھی تھا کہ میرے ساتھ نہ آؤ تم پاپا کے پاس رہتے تو شاید تمہیں یہ چوٹ نہ لگتی۔ میں نے ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا امّاجان اس دنیا میں تو دور کی بات میں تو جنت میں بھی آپ کے بنا رہنا نہیں چاہوں گا۔ اس رمضان میں میرے ماموں کا انتقال ہوگیا۔ ماموں کی موت کے بعد میری ماں ذہنی مریضہ ہوچکی ہیں مگر آج بھی انہیں وہ سب تکلیفیں یاد ہیں جو ان کی خاطر مجھے پہنچی تھیں جبکہ ان کو میری خاطر دی گئی اپنی ایک بھی قربانی یاد نہیں۔۔۔ واقع ہی سچ کہتے ہیں کہ


فقط خدا نہیں ہوتی ورنہ ماں کیا نہیں ہوتی۔

جدید تر اس سے پرانی