امجد اپنی ماں کے ساتھ گھر میں اکیلا رہتا تھا۔
Amjad Aur Us ki Biwi ka Sabaq Amoz Waqia By Saadullah Khan |
اس کی ماں بار بار ہی اصرار کرتی کہ میرے مرنے سے پہلے شادی کرلو ورنہ میرے بعد تمہارا کون خیال رکھے گا۔ مگر امجد ہر بار یہی کہہ کر ٹال دیتا کہ ابھی کوئی اچھی جاب مل جائے کیونکہ جو جاب وہ کر رہا تھا وہ اس سے مطمئن نہیں تھا۔ کچھ عرصہ گزرا کہ امجد کو ایک اچھی کمپنی سے جاب کی آفر آگئی اور اس نے وہ کمپنی جوائن کرلی۔ اب اس کا شادی نہ کرنے کا بہانہ بھی ختم ہوگیا اور یوں جاب ملنے کے کچھ عرصہ بعد امجد کی شادی ہوگئی۔ سب ٹھیک تھا دونوں میاں بیوی خوش تھے۔ شادی کے کچھ ماہ بعد امجد کی ماں اس دار فانی سے کوچ کرگئی اور گھر میں صرف دونوں میاں بیوی اکیلے رہ گئے۔ امجد صبح آفس چلا جاتا تو شام کو گھر میں لوٹتا۔ کچھ عرصہ ایسا گزرا تو امجد محسوس کرنے لگا کہ اس کی بیوی اب اس سے پہلے کی طرح پیار نہیں کرتی اور نہ اس کا اب پہلے کی طرح خیال رکھتی ہے۔ کچھ محلے کے عورتوں نے بھی جن کا امجد کے گھر آنا جانا تھا امجد کے کان بھرے کہ یوں جوان بیوی کو اکیلے گھر چھوڑ کے جانا ٹھیک نہیں۔ امجد ان سب باتوں کی وجہ سے پریشان رہنے لگا۔ آخر وہ صرف شک کی بنا پر اپنی بیوی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا اور نہ کچھ پوچھ سکتا تھا۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ گھر میں خفیہ کیمرے لگا کہ دیکھے گا کہ اس کی بیوی سارا دن گھر میں کیا کرتی ہے اور کوئی اس سے ملنے آتا ہے یا نہیں۔ ایک دن اس نے بیوی کو اس کے میکے بھیج دیا اور سارے گھر میں خفیہ کیمرے لگا دیئے۔ اب امجد روزانہ ان کیمروں کو دیکھتا کہ اس کی بیوی سارا دن گھر میں کیا کرتی ہے۔ کوئی اس سے ملنے آتا ہے یا وہ کسی کے پاس جاتی ہے۔ بلکہ جو کچھ امجد نے دیکھا وہ سب اس کی سوچ سے الگ تھا۔ اس کی بیوی کا سارا وقت گھر کے کاموں کے بعد صرف نماز پڑھنے اور قرآن پاک کی تلاوت میں گزرتا۔ وہ ایک نیک اور پارسا بیوی تھی۔ امجد کو یہ سب دیکھ کر بہت حیرت اور شرمندگی ہوئی کہ وہ کیا سوچتا رہا اور حقیقت کیا تھی۔ وہ اپنی بیوی سے بہت شرمندہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی بیوی کو سب بتا کر معافی مانگے کہ اس نے کس طرح اس پر شک کیا اور اسی شک میں کتنی غلط اور گھٹیا حرکت کر بیٹھا تھا۔ اس کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ہوگیا۔ اس شام وہ جب آفس سے گھر آیا تو اپنی بیوی کےلئے کچھ کپڑے اور تحائف وغیر ہ ساتھ لے گیا۔ اور بس اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی نظروں سے گر چکا تھا اس لئے اپنی بیوی کی نظروں میں اٹھنا چاہتا تھا۔ آج اس کی بیوی نے جب دیکھا کہ اس کا شوہر اس کےلئے کپڑے اور تحائف لے کر آیا ہے تو وہ بہت خوش ہوئی مگر ساتھ ہی امجد کی آنکھوں کی شرمندگی بھی اسے صاف صاف نظر آرہی تھی۔ اس نے امجد سے پوچھا کہ آج آپ کچھ الگ نظر آرہے ہیں۔ بتائیں کیا بات ہے؟ امجد نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا اور بولا، نہیں کچھ نہیں بس تھک گیا ہوں، تم کو کپڑے اور تحائف پسند آئے؟ امجد کی بیوی اس کے سامنے آگئی اور کہنے لگی، ہاں بہت پسند آئے مگر آپ کیوں پریشان ہیں، کوئی تو بات ضرور ہے۔ امجد اب خاموش ہوگیا۔ وہ سب کچھ بتا دینا چاہتا تھا مگر اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ کہتا بھی تو کس طرح۔ آخر امجد سے رہا نہ گیا تو بولا، اگر مجھ سے کوئی بہت بڑی غلطی، کوئی بہت بڑا گناہ ہوجائے تو کیا تم مجھ کو معاف کردو گی؟ امجد کی بیوی نے کہا کہ غلطی چاہے آپ نے جو بھی کی ہو، میں آپ کو معاف کردوں گی مگر گناہ کےلئے آپ اللہ سے معافی مانگیں۔ وہ ہی آپ کے گناہ کو معاف کرسکتے ہیں اور ان شاءاللہ معاف کردیں گے۔ اپنی بیوی کی یہ بات سن کر امجد کی جان میں جان آئی۔ اس نے سوچا کہ وہ اپنی بیوی کو سب بتا دے مگر پھر سوچا کہ یہ سب بتانے کے بعد شاید اس کی بیوی معاف تو کر دے گی مگر کبھی اس کے ذہن سے یہ بات نکل نہیں پائے گی۔ اس سوچ کے دوران امجد کی بیوی بولی، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ نے جو غلطی کی ہے بتادیں تا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے اور اگر بتانے کی ہمت نہیں ہورہی تو نہ بتائیں میں نے تو ویسے بھی آپ کو معاف کردیا تو غلطی جان کر کیا کروں گی۔ بس آپ پر سکون ہوجائیں اور اللہ سے معافی مانگ کر یقین رکھیں کہ وہ بھی سچے دل سے مانگی ہوئی معافی کو کبھی رد نہیں کرتا۔ امجد کے دل سے سارا بوجھ آہستہ آہستہ اترتا جا رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے کیا کیا اور اس کی بیوی کس طرح اس کی دل جوئی کر رہی ہے۔ آخر امجد نے اپنی بیوی سے معافی مانگی اور وضو کرکے اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگی اور خود سے عہد کیا کہ کبھی کسی شک کی بنا پر وہ ایسی غلطی، ایسا گناہ نہیں کرے گا اور اپنی بیوی کو ہمیشہ ہر خوشی اور راحت دے گا جیسے اس نے مجھے راحت اور سکون دیا۔ امجد نے اپنا عہد پورا کیا اور زندگی بھر پھر کبھی ایسی غلطی نہ دہرائی اور ہمیشہ اپنی بیوی کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ خاندان میں جب بھی میاں بیوی کے سچے رشتے کی مثال دی جاتی تو امجد اور اس کی بیوی کی دی جاتی۔