امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے شہر پشاور میں قائم امریکی قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔

 امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے شہر پشاور میں قائم امریکی قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ یہ قونصل خانہ افغان سرحد کے قریب امریکا کا ایک اہم سفارتی مرکز سمجھا جاتا تھا اور 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے، دوران اور اس کے بعد ایک اہم آپریشنل اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا رہا۔


          مزید تفصیلات کےلئے نیچے سکرول کریں





https://saadullahkhanbannu.blogspot.com/2026/03/blog-post_96.html?m=1


غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس ہفتے کانگریس کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کی بندش سے ہر سال تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، جبکہ اس اقدام سے امریکا کے قومی مفادات یا پاکستان میں جاری سفارتی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔


ذرائع کے مطابق پشاور میں موجود قونصل خانے کو بند کرنے کی تجویز ایک سال سے زائد عرصے سے زیر غور تھی۔ اس منصوبے کی ابتدا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وفاقی اداروں کے حجم میں کمی کی پالیسی کے تحت کی گئی تھی۔


حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کے ساتھ کشیدگی یا حالیہ مظاہروں سے متعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل سیکیورٹی خدشات کے باعث کراچی اور پشاور میں امریکی قونصل خانے عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔



گزشتہ سال امریکی حکومت نے محکمہ خارجہ میں بڑی سطح پر اخراجات کم کرنے کے اقدامات کیے تھے، جن میں ہزاروں سفارتکاروں کو فارغ کرنا اور یو ایس ایڈ کے بیشتر عملے کو برطرف کرنا بھی شامل تھا۔ پشاور کا قونصل خانہ تنظیم نو کے عمل کے بعد بیرون ملک بند ہونے والا پہلا مکمل امریکی سفارتی مشن قرار دیا جا رہا ہے۔


سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس قونصل خانے میں 18 امریکی سفارتکار اور دیگر سرکاری اہلکار جبکہ 89 مقامی ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل پر تقریباً 3 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں سے 1.8 ملین ڈالر عارضی دفاتر کے طور پر استعمال ہونے والے مضبوط ٹریلرز کو منتقل کرنے پر خرچ کیے جائیں گے۔


اس کے علاوہ قونصل خانے کے گاڑیوں کے بیڑے، الیکٹرانک آلات، ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم اور دفتری سامان کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ساتھ ساتھ کراچی اور لاہور میں قائم دیگر امریکی قونصل خانوں میں منتقل کیا جائے گا۔


پشاور میں قونصل خانے کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی تھی کہ یہ افغان سرحد اور کابل کے قریب واقع ہونے کے باعث زمینی راستوں سے افغانستان جانے کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ شمال مغربی پاکستان میں مقیم امریکی اور افغان شہریوں کے لیے یہ رابطے کا ایک بڑا ذریعہ بھی تھا، جہاں سے وہ امریکی امداد یا دیگر معاملات کے لیے رابطہ کرتے تھے۔


نوٹیفکیشن کے مطابق اب قونصلر خدمات اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جو پشاور سے تقریباً 184 کلومیٹر (114 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔



امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کی بندش کے باوجود امریکی مفادات کے تحفظ، شہریوں کی معاونت اور بیرونی امدادی پروگراموں کی نگرانی کا عمل متاثر نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تمام ذمہ داریاں اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے ذریعے بدستور انجام دی جاتی رہیں گی۔

جدید تر اس سے پرانی