امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے اور جو بھی شخص وہاں قیادت سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے اسے ہدف بنایا جاتا ہے۔
Follow Us On X Follow Us On FaceBook Subscribe Follow Us On Instagram
مزید معلومات کےلئے نیچے سکرول کریں
ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے میں امریکا کو واضح برتری حاصل ہے اور ایرانی میزائلوں سمیت ان کے لانچنگ سسٹمز کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگی محاذ پر پیش رفت توقع سے زیادہ بہتر ہے اور امریکی افواج مؤثر انداز میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف کارروائی نہ کرتا تو ممکن تھا کہ ایران خود حملہ کر دیتا۔ ان کے مطابق بروقت اقدامات کے ذریعے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے بھی روکا گیا۔
انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک اور اتحادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ٹرمپ کے بقول اگر غیر ذمہ دار عناصر کے پاس ایٹمی ہتھیار آ جائیں تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران میں گزشتہ 47 برس سے جاری تشدد اور خونریزی کو روکنے کے لیے قدم اٹھایا۔
امریکی صدر نے اس موقع پر سابق صدر براک اوباما کی ایران کے ساتھ ہونے والی جوہری معاہدے پر بھی تنقید کی۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کو امریکی عوام کی حمایت حاصل ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ اسپین امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہے۔
